Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

خط دود

مجاز آشنا

خط دود

مجاز آشنا

MORE BYمجاز آشنا

    وہ سگریٹ

    جس کو مہکتی ہوئی انگلیوں

    اور ضیا‌ پاش نظروں

    سے تو نے اٹھایا جلایا

    بڑے ناز و انداز سے کش لگائے

    فضا میں دھوئیں نے وہ جادو جگائے

    کہ میں جن میں مسحور سا ہو گیا ہوں

    وہیں کھو گیا ہوں

    مگر پھر اچانک

    خیالوں کی رو کچھ بہک سی گئی ہے

    گھنے جنگلوں میں بھٹک سی گئی ہے

    ہواؤں میں اک خوف سا سرسرایا

    درندوں شیاطین کا غول آیا

    مجھے دیکھ کر ان کی انگارا آنکھیں

    دہکنے لگی ہیں

    خوشی اور نفرت کے جذبات سے یوں

    چمکنے لگی ہیں

    کہ جیسے انہیں مدعا مل گیا ہو

    اندھیرے میں اک راستہ مل گیا ہو

    دبے پاؤں سارے درندے

    مری سمت بڑھنے لگے ہیں

    مجھے موت کے خونی پنجے میں لے کر

    بلند اور بالا پہاڑوں کی چوٹی

    پہ لہراتے بل کھاتے چڑھنے لگے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے