Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

خمیازہ

انوار انجم

خمیازہ

انوار انجم

MORE BYانوار انجم

    کہاں یہ دعا تھی کہ راہ وفا میں کبھی تو کوئی لمحۂ قرب آئے

    کہاں اب یہ عالم کہ ایک ایک ساعت ہماری ملاقات کی رازداں ہے

    یہ جی چاہتا ہے کسی طرح گزرا زمانہ ہی اک بار پھر لوٹ آئے

    وہی جسم جو ہجر کی شب میں میرے لیے چشمۂ نور تھا

    پاس آیا تو پتھر کی سل بن گیا ہے

    نہ اب اس کے شفاف سینے میں وہ چاندنی کی پھواریں

    نہ اب بازوؤں میں وہ پہلی سی لچکیلی گدراہٹیں ہیں

    یہ عارض ہیں یا دن میں نکلے ہوئے چاند کا مضمحل عکس ہیں

    اگر وصل کی نعمتوں کا یہی طور ہے تو میں اس طور سے باز آیا

    مجھے تم خدا را وہی میرا گزرا ہوا دور دے دو

    وہ گردن کا خم وہ نگاہ تغافل پھر اک بار میرا مقدر بنا دو

    میں نزدیک آؤں تو دامن جھٹک دو

    پھر اس جسم اس دل کو قربت کی آلودگی سے چھڑا کر

    اسی اجنبیت کی دوشیزگی سے سجا دو

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے