خمیازہ
کہاں یہ دعا تھی کہ راہ وفا میں کبھی تو کوئی لمحۂ قرب آئے
کہاں اب یہ عالم کہ ایک ایک ساعت ہماری ملاقات کی رازداں ہے
یہ جی چاہتا ہے کسی طرح گزرا زمانہ ہی اک بار پھر لوٹ آئے
وہی جسم جو ہجر کی شب میں میرے لیے چشمۂ نور تھا
پاس آیا تو پتھر کی سل بن گیا ہے
نہ اب اس کے شفاف سینے میں وہ چاندنی کی پھواریں
نہ اب بازوؤں میں وہ پہلی سی لچکیلی گدراہٹیں ہیں
یہ عارض ہیں یا دن میں نکلے ہوئے چاند کا مضمحل عکس ہیں
اگر وصل کی نعمتوں کا یہی طور ہے تو میں اس طور سے باز آیا
مجھے تم خدا را وہی میرا گزرا ہوا دور دے دو
وہ گردن کا خم وہ نگاہ تغافل پھر اک بار میرا مقدر بنا دو
میں نزدیک آؤں تو دامن جھٹک دو
پھر اس جسم اس دل کو قربت کی آلودگی سے چھڑا کر
اسی اجنبیت کی دوشیزگی سے سجا دو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.