Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مرے بابا

روبینہ ایاز

مرے بابا

روبینہ ایاز

MORE BYروبینہ ایاز

    مجھے یاد آتی ہے بابا تری

    مجھے یاد آتی ہے بابا تری

    مرے سر کی چھت اب کہاں رہ گئی ہے

    تری یاد بس اب یہاں رہ گئی ہے

    اذیت ہیں یادوں کو دل میں بسانا

    کہاں اب ہے حاصل مجھے وہ زمانہ

    کٹے گی کہاں اب یہ دکھ کی گھڑی

    مجھے یاد آتی ہے بابا تری

    بڑے لاڈ سے تو نے ہم کو تھا پالا

    کھلایا ہمیں اپنے منہ کا نوالہ

    پڑی مشکلیں تو دیا ساتھ تو نے

    قدم لڑکھڑائے دیا ہاتھ تو نے

    کہ اب تو ہیں اشکوں سے آنکھیں بھری

    مجھے یاد آتی ہے بابا تری

    کوئی ہے یہاں ایسا کوئی ہے ویسا

    نہیں کوئی ہے میرے بابا کے جیسا

    مری خواہشوں کو یوں پورا کیا تھا

    جو مانگا تھا میں نے وہ لا کے دیا تھا

    مگر اب تو دیکھو مری بے بسی

    مجھے یاد آتی ہے بابا تری

    اچانک ترا ہاتھ ہاتھوں سے چھوٹا

    کہ شیشے کے مانند دل میرا ٹوٹا

    بتاؤں میں کیسے کہ تھا دن وہ کیسا

    قیامت سے پہلے قیامت کے جیسا

    ترے ساتھ میں ہی مری جاں گئی

    مجھے یاد آتی ہے بابا تری

    خدا مجھ کو اب صبر و ہمت عطا کر

    کہ بابا کو میرے تو جنت عطا کر

    ہو جنت میں اعلیٰ مقام ان کی قسمت

    ملے ان کو ہر دم خدا تیری رحمت

    دعا ہے یہی التجا ہے یہی

    مجھے یاد آتی ہے بابا تری

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے