مرے بابا
مجھے یاد آتی ہے بابا تری
مجھے یاد آتی ہے بابا تری
مرے سر کی چھت اب کہاں رہ گئی ہے
تری یاد بس اب یہاں رہ گئی ہے
اذیت ہیں یادوں کو دل میں بسانا
کہاں اب ہے حاصل مجھے وہ زمانہ
کٹے گی کہاں اب یہ دکھ کی گھڑی
مجھے یاد آتی ہے بابا تری
بڑے لاڈ سے تو نے ہم کو تھا پالا
کھلایا ہمیں اپنے منہ کا نوالہ
پڑی مشکلیں تو دیا ساتھ تو نے
قدم لڑکھڑائے دیا ہاتھ تو نے
کہ اب تو ہیں اشکوں سے آنکھیں بھری
مجھے یاد آتی ہے بابا تری
کوئی ہے یہاں ایسا کوئی ہے ویسا
نہیں کوئی ہے میرے بابا کے جیسا
مری خواہشوں کو یوں پورا کیا تھا
جو مانگا تھا میں نے وہ لا کے دیا تھا
مگر اب تو دیکھو مری بے بسی
مجھے یاد آتی ہے بابا تری
اچانک ترا ہاتھ ہاتھوں سے چھوٹا
کہ شیشے کے مانند دل میرا ٹوٹا
بتاؤں میں کیسے کہ تھا دن وہ کیسا
قیامت سے پہلے قیامت کے جیسا
ترے ساتھ میں ہی مری جاں گئی
مجھے یاد آتی ہے بابا تری
خدا مجھ کو اب صبر و ہمت عطا کر
کہ بابا کو میرے تو جنت عطا کر
ہو جنت میں اعلیٰ مقام ان کی قسمت
ملے ان کو ہر دم خدا تیری رحمت
دعا ہے یہی التجا ہے یہی
مجھے یاد آتی ہے بابا تری
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.