Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ایک پینٹنگ

مختار صدیقی

ایک پینٹنگ

مختار صدیقی

MORE BYمختار صدیقی

    رنگ ہی رنگ ہیں

    ان میں کوئی صورت نہیں ملتی

    جسے پہچان سکیں

    دائروں اور خطوں سے کوئی پیکر

    کوئی خاکہ نہیں بنتا

    جسے ہم جان سکیں

    وہ تناسب وہ تیقن وہ تعین نہیں

    ہم جس سے شناسا ہوں

    جسے مان سکیں

    وہ تأثر نہیں جو ذوق پہ احسان کرے

    کیف نظارۂ تصویر کا سامان کرے

    اس میں میرے لیے پھر بھی کوئی دل سوزیٔ پنہاں ہوگی

    جیسے ہر جنبش رنگ اس کی مرے خوں میں رہی ہو برسوں

    جیسے ہر دائرے ہر خط میں مری زیست کی ہر رات کٹی ہو برسوں

    شعلہ گہ جیسے یہی ہو میرے ہر عہد خیالات

    کی آنچوں کے لیے

    جلوہ کش جیسے یہی ہو مری نیرنگیٔ ارماں

    کی اڑانوں کے لیے

    میری ہر ایک غمی اور خوشی کی یہ نگہدار رہی ہو جیسے

    میری ہر تشنگیٔ روح کی یہ محرم اسرار رہی ہو جیسے

    میری ہر سعیٔ صفا کے لیے یہ صاحب اقرار رہی ہو جیسے

    میری ہر جیت ہر اک ہار رہی ہو جیسے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے