ایک پینٹنگ
رنگ ہی رنگ ہیں
ان میں کوئی صورت نہیں ملتی
جسے پہچان سکیں
دائروں اور خطوں سے کوئی پیکر
کوئی خاکہ نہیں بنتا
جسے ہم جان سکیں
وہ تناسب وہ تیقن وہ تعین نہیں
ہم جس سے شناسا ہوں
جسے مان سکیں
وہ تأثر نہیں جو ذوق پہ احسان کرے
کیف نظارۂ تصویر کا سامان کرے
اس میں میرے لیے پھر بھی کوئی دل سوزیٔ پنہاں ہوگی
جیسے ہر جنبش رنگ اس کی مرے خوں میں رہی ہو برسوں
جیسے ہر دائرے ہر خط میں مری زیست کی ہر رات کٹی ہو برسوں
شعلہ گہ جیسے یہی ہو میرے ہر عہد خیالات
کی آنچوں کے لیے
جلوہ کش جیسے یہی ہو مری نیرنگیٔ ارماں
کی اڑانوں کے لیے
میری ہر ایک غمی اور خوشی کی یہ نگہدار رہی ہو جیسے
میری ہر تشنگیٔ روح کی یہ محرم اسرار رہی ہو جیسے
میری ہر سعیٔ صفا کے لیے یہ صاحب اقرار رہی ہو جیسے
میری ہر جیت ہر اک ہار رہی ہو جیسے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.