بد گمانی
تم نے ہمیں اپنی منزل کا نشان بتایا
ہم نے اپنی مٹی ایک بھٹی کے حوالے کر دی
اور اینٹوں سے تمہارا راستہ ہموار کیا
تم نے ہمیں اپنی ہمیشگی کا قصہ سنایا
ہم نے دوام نامی اک داستان لکھی
اور اس کا اقتباس تمہارے نام کر دیا
تم نے فاتح بننے کی خواہش کا اظہار کیا
ہم نے شش جہات کے ماتھوں پر مفتوح لکھا
اور تمہاری دیوار کے سائے میں لا کر رکھ دیا
تم نے شاعری سے اپنے لگاؤ کا تذکرہ کیا
ہم نے گزشتگاں اور آئندگاں کے سب دیوان جلا ڈالے
اور ان کی راکھ سے تمہارے لیے سیاہی خلق کی
تم نے ہمیں متوجہ کرنے کی خاطر ایک اشارہ کیا
ہم نے اپنی آنکھیں نئے سرے سے روشن کیں
اور تمہارے چہرے کی نگرانی پر معمور کر دیں
تب ہم نے پہلی بار تمہاری آنکھوں میں جھانک کر دیکھا
اور ان میں جلتی آگ کی تپش سے
ہمارے کلیجے تانبے کی طرح پگھلنے لگے
تم نے ہم سے کم ہونے کا کہا
ہم بہت کم ہو گئے
تم نے ہم سے مزید کم ہونے کا کہا
ہم صفر ہو گئے
تم ہماری غیر موجودگی پر ناراض ہوئے
اور کمرے کے دروازے کو ٹھوکر مار کر
اپنے کائی لگے غار کی جانب پلٹ گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.