Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بد گمانی

ماہ نور رانا

بد گمانی

ماہ نور رانا

MORE BYماہ نور رانا

    تم نے ہمیں اپنی منزل کا نشان بتایا

    ہم نے اپنی مٹی ایک بھٹی کے حوالے کر دی

    اور اینٹوں سے تمہارا راستہ ہموار کیا

    تم نے ہمیں اپنی ہمیشگی کا قصہ سنایا

    ہم نے دوام نامی اک داستان لکھی

    اور اس کا اقتباس تمہارے نام کر دیا

    تم نے فاتح بننے کی خواہش کا اظہار کیا

    ہم نے شش جہات کے ماتھوں پر مفتوح لکھا

    اور تمہاری دیوار کے سائے میں لا کر رکھ دیا

    تم نے شاعری سے اپنے لگاؤ کا تذکرہ کیا

    ہم نے گزشتگاں اور آئندگاں کے سب دیوان جلا ڈالے

    اور ان کی راکھ سے تمہارے لیے سیاہی خلق کی

    تم نے ہمیں متوجہ کرنے کی خاطر ایک اشارہ کیا

    ہم نے اپنی آنکھیں نئے سرے سے روشن کیں

    اور تمہارے چہرے کی نگرانی پر معمور کر دیں

    تب ہم نے پہلی بار تمہاری آنکھوں میں جھانک کر دیکھا

    اور ان میں جلتی آگ کی تپش سے

    ہمارے کلیجے تانبے کی طرح پگھلنے لگے

    تم نے ہم سے کم ہونے کا کہا

    ہم بہت کم ہو گئے

    تم نے ہم سے مزید کم ہونے کا کہا

    ہم صفر ہو گئے

    تم ہماری غیر موجودگی پر ناراض ہوئے

    اور کمرے کے دروازے کو ٹھوکر مار کر

    اپنے کائی لگے غار کی جانب پلٹ گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے