Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دھندلے خد و خال

المیر بیخود

دھندلے خد و خال

المیر بیخود

MORE BYالمیر بیخود

    یوں نہ دیکھو مجھے

    جیسے میرے ہاتھوں سے

    کوئی بہت قیمتی آبگینہ چھوٹ گیا ہو

    ہاں

    میں نے برسوں تمہاری سانسوں کی لو سے

    اپنے کمرے کا اندھیرا کاٹا ہے

    تمہاری باتوں کی نرم تہہ میں

    کتنی ہی سرد اور بے اماں راتیں گزاری ہیں

    میری ہر سوچ کی پگڈنڈی پر

    تمہارے ہی قدموں کے نشان تھے

    یہ سچ ہے

    پر آج

    آج میرے سینے کی بوسیدہ دیواروں پر

    کچھ اور سائے رینگ رہے ہیں

    تمہیں یاد ہے ہم نے

    اپنے حصے کی خوشیوں سے

    ایک چھوٹا سا کچا سا گھر بنایا تھا

    آج اس کی دیواریں سرک رہی ہیں

    مجھے معاف کر دینا

    آج میرے پاس تمہاری زلفوں کے سائے میں

    چھپنے کی گنجائش نہیں ہے

    باہر سڑک پر

    ان لوگوں کی بھیڑ ہے

    جن کے چہروں پر وقت نے

    جلی ہوئی روٹیوں کی کالک مل دی ہے

    جن کی آنکھوں کی پتلیوں میں

    مستقبل کسی پرانی گندی چادر کی طرح

    لپٹا ہوا ہے

    جب میں تمہاری مخملی ہتھیلیوں کو چھوتا ہوں تو

    مجھے ان کے کھردرے کٹے ہوئے ہاتھ

    اپنی گردن پر چبھتے محسوس ہوتے ہیں

    ان لمحوں کا خمیر کیا ہے

    جو ہم اکیلے میں ہنس کر گزارتے ہیں

    شاید ان کے پیچھے

    بہت سے گونگے لوگوں کی

    ان سنی چیخیں چنی ہوئی ہیں

    آج مجھے اپنی ذات کے خول سے

    باہر کھڑا رہنے دو

    میری خاموشی کو آج نوحہ بننے دو

    میرے چہرے پر جمی یہ راکھ

    آج مت جھاڑنا

    آج کی رات

    میرے سرہانے کوئی گلاب نہ رکھنا

    میری آنکھوں کی پتلیوں میں

    کچھ اڑتی ہوئی دھول جم گئی ہے

    اور اس دھول میں

    محبت کے خد و خال

    بہت دھندلے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے