لوٹنا پڑا مجھ کو
بعد ایک عرصے کے
دیکھا میں نے اس کو جب
ایسا لگتا تھا جیسے
آفتاب آنگن میں
یوں ہی ہو اتر آیا
بے نقاب تھا چہرہ
زلف بکھری تھی اس پر
اور لباس کالا تھا
اس کی آنکھوں میں کاجل
تھا سجا ہوا ایسے
جیسے کالی آندھی میں
خوب ساری بارش ہو
ابرو ایسے تھے جیسے
نوک دار تلواریں
مختصر یہ کہتا ہوں
سارے نقش بہتر تھے
دل نے یہ کہا مجھ سے
حال دل بیاں کر دے
کب تلک رہے گا تو
ایسے اجنبی بن کر
حال دل سنا اس کو
اور سبھی عیاں کر دے
پر میں ٹھہرا تھا بزدل
کہہ نہ پایا حال دل
کر بھی سکتا کیا تھا میں
خیر ہو بھی کیا جاتا
لے کے اپنے ارماں کو
لوٹنا پڑا مجھ کو
خواب یوں ہی بکھرے تھے
ٹوٹ سا گیا دل بھی
دل کو لے کے ہاتھوں میں
لوٹنا پڑا مجھ کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.