ایک مجسمہ
لوح احکام ہوئی ایک ہی جھٹکے میں دو لخت
دیکھا جاتا نہ تھا پیغمبر سینا کا جلال
لب سفید آنکھیں تپاں رخ سے عیاں صدمۂ سخت
اور ان آنکھوں سے ابلتا ہوا اک قہر عظیم
شعلہ در شعلہ رواں سوئے بنی اسرائیل
تم وہ بد بخت کہ ٹھکراتے ہو عرفاں کی سبیل
بے اثر تم پہ ہر اک معجزہ و حرف و دلیل
مائیکل اینجلو وہ طیش و الم کا لمحہ
تیرے تیشے نے تراشا ہے کس انداز کے ساتھ
اس قدر درد پھر اس طنطنہ و ناز کے ہاتھ
تیری تخلیق کا یہ سحر ہے بے قید زماں
اہل دل کے لیے زہراب ہے یہ آگاہی
کہ اس انسان کی گمراہی وہی ہے کہ جو تھی
لاکھ سقراط اسے راستہ دکھلاتے رہیں
اس کی قسمت میں وہی تیرہ شبی ہے کہ جو تھی
لاکھ موسیٰ یہاں خورشید بکف آتے رہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.