Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تم نہیں سمجھو گے

سلمان ثروت

تم نہیں سمجھو گے

سلمان ثروت

MORE BYسلمان ثروت

    بے طلب منزلیں

    بے ارادہ سفر

    اک مسافت ہے جو ابتدا سے پرے

    انتہا سے الگ

    وقت سے ماورا

    اپنی آوارگی کا نہ کوئی سبب ہے نہ کوئی سرا

    ایک خود رو اداسی

    ملامت زدہ آرزو کی نمو

    جھلملاتے دکھوں کی وہ بہتی ہوئی آب جو

    حسرتوں کا یہ بے ربط جغرافیہ

    جان لیوا خیالوں کی آماج گاہ

    اپنے خوابوں میں ان کے سوا اور رکھا ہے کیا

    چلچلاتی تھکن

    چرمراتا بدن

    موم صورت ٹپکتے پسینے کی بوندیں

    تنفس کا مد و جزر

    ان کئے فیصلوں کا ضرر اس قدر

    اس قدر شوق آوارگی کس لیے

    کس لیے ایک بے نام جذبے کے اصرار پر

    زندگی محض خود کار زینے کے مانند چلتی رہی

    حاشیے پہ کنارہ کشی کیسے ممکن ہوئی

    دائرہ وار چلنے کی عادت کہاں سے پڑی

    کوئی محور نہیں اور بلا کی کشش

    کچھ نہ کچھ بھید ہے بر سبیل خلش

    میں سمجھ جاؤں گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے