تم نہیں سمجھو گے
بے طلب منزلیں
بے ارادہ سفر
اک مسافت ہے جو ابتدا سے پرے
انتہا سے الگ
وقت سے ماورا
اپنی آوارگی کا نہ کوئی سبب ہے نہ کوئی سرا
ایک خود رو اداسی
ملامت زدہ آرزو کی نمو
جھلملاتے دکھوں کی وہ بہتی ہوئی آب جو
حسرتوں کا یہ بے ربط جغرافیہ
جان لیوا خیالوں کی آماج گاہ
اپنے خوابوں میں ان کے سوا اور رکھا ہے کیا
چلچلاتی تھکن
چرمراتا بدن
موم صورت ٹپکتے پسینے کی بوندیں
تنفس کا مد و جزر
ان کئے فیصلوں کا ضرر اس قدر
اس قدر شوق آوارگی کس لیے
کس لیے ایک بے نام جذبے کے اصرار پر
زندگی محض خود کار زینے کے مانند چلتی رہی
حاشیے پہ کنارہ کشی کیسے ممکن ہوئی
دائرہ وار چلنے کی عادت کہاں سے پڑی
کوئی محور نہیں اور بلا کی کشش
کچھ نہ کچھ بھید ہے بر سبیل خلش
میں سمجھ جاؤں گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.