میں وہاں نہیں رہتا
دشمنی ہی رشتہ ہو
خامشی بھی نوحہ ہو
موت اک تماشہ ہو
میں وہاں نہیں رہتا
لوگ صرف بستے ہوں
نیند کو ترستے ہوں
بم جہاں برستے ہوں
میں وہاں نہیں رہتا
چوڑیوں کے ٹکڑے ہوں
خشک و زرد مکھڑے ہوں
ہر زباں پہ دکھڑے ہوں
میں وہاں نہیں رہتا
سر جہاں پہ سستے ہوں
بے امان رستے ہوں
آدمی بھی ڈستے ہوں
میں وہاں نہیں رہتا
زندگی ستاتی ہو
بے بسی رلاتی ہو
روز موت آتی ہو
میں وہاں نہیں رہتا
فائلوں میں نقشوں میں
چارٹوں گرافوں میں
غیر ملکی قرضوں میں
سانس لیتا رہتا ہوں
کیپیٹل میں رہتا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.