خط دود
وہ سگریٹ
جس کو مہکتی ہوئی انگلیوں
اور ضیا پاش نظروں
سے تو نے اٹھایا جلایا
بڑے ناز و انداز سے کش لگائے
فضا میں دھوئیں نے وہ جادو جگائے
کہ میں جن میں مسحور سا ہو گیا ہوں
وہیں کھو گیا ہوں
مگر پھر اچانک
خیالوں کی رو کچھ بہک سی گئی ہے
گھنے جنگلوں میں بھٹک سی گئی ہے
ہواؤں میں اک خوف سا سرسرایا
درندوں شیاطین کا غول آیا
مجھے دیکھ کر ان کی انگارا آنکھیں
دہکنے لگی ہیں
خوشی اور نفرت کے جذبات سے یوں
چمکنے لگی ہیں
کہ جیسے انہیں مدعا مل گیا ہو
اندھیرے میں اک راستہ مل گیا ہو
دبے پاؤں سارے درندے
مری سمت بڑھنے لگے ہیں
مجھے موت کے خونی پنجے میں لے کر
بلند اور بالا پہاڑوں کی چوٹی
پہ لہراتے بل کھاتے چڑھنے لگے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.