مداوا
باغ کے اجڑے ہوئے گوشے میں تنہا ایک پیڑ
یوں سراسیمہ کھڑا ہے سوچ کے جنگل میں گم
جیسے آ نکلے کوئی بھٹکا مسافر اجنبی سے دیس میں
اور اس بے خانماں کا ہمزباں کوئی نہ ہو
سوچتا ہے کس طرح کاٹوں گا تنہائی کی رات
رات ہے اتنی بھیانک اتنی تلخ اتنی طویل
ناگ بن کر ڈس رہا ہے جس کا ہر لمحہ اسے
کانپتا ہے خوف سے یہ بید مجنوں کی طرح
مسکرا کر اپنے ہم جنسوں سے گر یہ جا ملے
اپنی اس گمبھیر خاموشی کا افسوں توڑ دے
رات کٹ سکتی ہے چھٹ سکتا ہے یہ ابر سیہ
اس کی کلفت کا مداوا
مسکرانے میں ہے
رونے میں نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.