یہ خواب مکمل کب ہوگا
اس بستی کے ہنستے
حرکت کرتے بچے
بارودی اصناف میں یوں پابند ہوئے
کچھ راکھ ہوئے
کچھ مٹی کا پیوند ہوئے
اس بستی کے ہر کوچے میں آسیب کھلے سر پھرتے ہیں
یہ بین بھرے سونے آنگن افسردہ ہیں
یہ چلتے پھرتے لوگ ہیں لیکن مردہ ہیں
میں کب تک نوحے لکھوں گا
یہ مردے کب زندہ ہوں گے
کب چہکیں گے سونے آنگن
وہ آگ صفت ٹھنڈے ہو کر
کب پھولوں کو بوسہ دیں گے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.