سکل بن پھول رہی سرسوں
کہاں ہو تم بھلے خسرو
نظام الدین سے اپنے یہ جا کہیو
عرج ہمری سنیں حضرت
جو اموا پھوٹتے تھے رس بھرے پیلے
وہ جیسے دھوپ کے ٹکڑے
وہ اب یا تو نہیں کھلتے
یا گر جاتے ہیں پیڑوں سے
ہوا کی ایک ٹھوکر بھی نہیں سہتے
یہ ٹیسو کے دہکتے پھول
جیسے زخم ہیں جنگل کی شاخوں پر
بہار اب سبز پتوں کی کوئی تالی نہیں سنتی
جو کوئل ڈار میں جائے
تو اس کے سر بھی گھائل سے پلٹ
آئیں سماعت تک
جزیروں کی ہوا چیخوں کا نم چہرے پہ رکھتی ہے
یہاں ہر ڈار پر اب ڈر کا سایہ ساتھ اڑتا ہے
وصالوں سے زیادہ ہجر کی آہٹ سنے گوری
سنور سج کر کدھر جائے
شکستہ آئنہ کیا صورت دل دار دکھلائے
سنو خسرو
بسنتی موسموں میں تم
کوئی تو راگنی لاؤ
کہ جس کے بول میں
ٹوٹے ہوئے موسم بھی جڑ جائیں
ذرا کھماج تو اس پہر میں چھیڑو
جسے سن کے جدائی سکھ سے سو جائے
یا پھر تم دیس کے سر چھیڑ دو
رنگریز بن جائے تو گوری اوڑھنی پر پھر دھنک دیکھے
پتنگوں کی طرح اڑتی پھرے
اور پھر پیا دل میں نرت کھیلے
نرت ایسا جو مرہم ہو
سکل بن پھولتی سرسوں کو
پھر مسکان اوڑھائے
بھلے خسرو
عرج ہمری ذرا پیش نظام الدین لے جاؤ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.