آئیڈیالوجی
دھڑکنوں کے اس جانب
جگنوؤں کے جنگل میں
پرفشاں ہیں مدت سے
جلتی بجھتی آوازیں
ایک بھی صدا لیکن
وہ صدا نہیں جس سے
زندگی کے دامن پر
کوئی حرف رخشندہ
چاند بن کے جم جائے
ناگہاں اٹھا کہرام
جگنوؤں کے جنگل میں
کانپ کانپ اٹھے لمحے
جانے کس کی آہٹ سے
جانے کیوں یہ گھبرا کر
جلتی بجھتی آوازیں
چیختی خموشی کا
لے کے ہاتھ میں خنجر
خودکشی پہ مائل ہیں
دور افق پہ لہرایا
ایک دودھیا سایا
بٹ گیا ہے دھبوں میں
تیرگی کا پیرایہ
دور دور تک اب تو
مستقل اجالا ہے
اب کسی بھی دھبے میں
تیرگی کے جادو سے
جان پڑ نہیں سکتی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.