میرا قتل
میں آنسو ڈھونڈھتا ہوں اپنی آنکھوں میں
کہ ان آنکھوں کی ویرانی
مرے ماضی سے بھی انکار کرتی ہے
یہ اگلی ساعتوں کی نرم دستک ہے کہ میرا دل دھڑکتا ہے
یہ چہرے
جن سے میری بزم میں کل تک چراغاں تھا
انہیں پہچانتا ہوں میں
مگر کس سے کوئی پوچھے
وہ لمحہ کون سا تھا جس پہ میرے قتل کا الزام آتا ہے
بہت حیران ہو کر سوچتا ہوں میں
کہ اپنے قتل کی روداد کیا لکھوں
مری آنکھوں کی ویرانی یہ کہتی ہے
ترستی ہوں میں شبنم کو سمندر سوکھ جائے گا
کوئی آواز دے شام الم صبح غریباں کو
کہ دو آنسو عطا کر دے
وہ میرے قتل کی روداد ہی لکھ دے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.