تسکین کے پیکر میں ڈھلی نعت کہی
تسکین کے پیکر میں ڈھلی نعت کہی
جب شدت آزار بڑھی نعت کہی
جز اس کے کسی کا بھی سہارا نہ لیا
جب غم سے رہائی نہ ملی نعت کہی
اس صنف کو اللہ نے یہ اعزاز دیا
قرآن کی صورت میں جلی نعت کہی
جس وقت مدینے کا خیال آیا مجھے
سرکار دو عالم کی کوئی نعت کہی
میں نے گل چیدہ کے تقرب کے لئے
گل ہائے چنیدہ سے گندھی نعت کہی
جب جب غم دنیا نے پریشان کیا
ہر بار سلیقے سے نئی نعت کہی
اس ڈور کی مضبوطی مسلم ہے سحرؔ
جب ختم ہر امید ہوئی نعت کہی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.