سلاطین جہاں دینے سلامی بار بار آئے
سلاطین جہاں دینے سلامی بار بار آئے
نرالی شان سے دنیا میں دیں کے تاجدار آئے
نبی کے پاس سب صدیق جیسے جاں نثار آئے
عمر آئے غنی آئے علئ نامدار آئے
محبت اس قدر تھی حضرت صدیق کو ان سے
بہ ہمراہ نبی تنہا وہی تو سوئے غار آئے
زہے قسمت جو ہو جائے زیارت خواب میں ان کی
الٰہی کوئی شب ایسی مجھے بھی سازگار آئے
مچی تھی دھوم دنیا میں انہیں کی آمد آمد کی
کچھ ایسی شان کو لے کر وہ دیں کے تاجدار آئے
ہر اک اہل محبت پر جدائی شاق ہوتی ہے
بلا لیجے مدینے میں مجھے جس سے قرار آئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.