دنیا حضور کی ہے زمانہ حضور کا
دنیا حضور کی ہے زمانہ حضور کا
سینے میں میرا دل ہے ٹھکانہ حضور کا
دیکھیں گے ہم بھی گنبد خضرا کی رونقیں
گر ہو گیا نصیب بلانا حضور کا
ہیں جس میں فاطمہ علی حیدر حسن حسین
بے مثل ہے جہاں میں گھرانا حضور کا
اے کاش ایسا ہو کبھی قسمت مری کھلے
ہو جائے میرے خواب میں آنا حضور کا
یہ سوچیے کہ کتنے مقدس ہیں راستے
آنا تھا جن سے اور کبھی جانا حضور کا
فرحانؔ یوں ہی مدح شہ دو جہاں کروں
آتا رہے خیال سہانا حضور کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.