کوئی مانے نہ مانے تم ہی تم ہو بالیقیں تم ہو
کوئی مانے نہ مانے تم ہی تم ہو بالیقیں تم ہو
شہ لولاک بے شک صاحب عرش بریں تم ہو
بہ امر رب ز آدم تا بہ ایں دم کار فرما ہے
وہ روح اولیں تم ہو وہ عقل اولیں تم ہو
تمہاری سر نوشت زندگی کا نام قرآں ہے
وہ چلتی پھرتی اک تصویر قرآن مبیں تم ہو
نہیں تم سا حقیقت میں صداقت میں امانت میں
حقیقت میں ہر اک حق و صداقت کے امیں تم ہو
دلوں سے کفر کی ظلمت مٹائی شرک ذہنوں سے
منور دو جہاں جن سے ہیں وہ ماہ مبیں تم ہو
عذاب اجتماعی پھر نہ آیا جب سے تم آئے
زمانہ معترف ہے رحمۃ اللعالمیں تم ہو
کرو پھر پیرویٔ اسوۂ حسنہ بنو رہبر
زمانہ منتظر ہے جن کا وہ عہد آفریں تم ہو
غلاموں کو مدینے میں بلا کر شاد فرماؤ
کہیں بندے کہیں آقا کہیں ہم ہیں کہیں تم ہو
دکھا دو پھر سے تاباںؔ کو جمال اپنا شۂ والا
ان آنکھوں میں بھی آ جاؤ کہ اس دل کے مکیں تم ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.