ہر طرف سے آ رہی ہے بوئے ختم المرسلیں
ہر طرف سے آ رہی ہے بوئے ختم المرسلیں
رشک جنت آج بھی ہے کوئے ختم المرسلیں
روشنی آنکھوں کی بڑھتی جا رہی ہے پے بہ پے
خواب میں دیکھا ہے میں نے روئے ختم المرسلیں
وہ مسلماں کیا مسلماں ہے ذرا یہ سوچئے
پائی جاتی ہو نہ جس میں خوئے ختم المرسلیں
گھر سے نکلا جو مٹانے ہادیٔ اسلام کو
آ گیا خود ہی پلٹ کر سوئے ختم المرسلیں
ڈھونڈنے والو یہ احساس نظر کی بات ہے
ورنہ ہر گل میں بسی ہے بوئے ختم المرسلیں
حیدر و عثمان صدیق و عمر کی کیا مثال
ہو گئے شیدا جو دیکھا روئے ختم المرسلیں
اس لئے خالد کو ہر میدان میں نصرت ملی
پاس رکھتے تھے وہ ہر دم موئے ختم المرسلیں
ابر چھا جائے گا اور رحمت کی برسے گی گھٹا
جب کھلیں گے حشر میں گیسوئے ختم المرسلیں
با ادب ہو کر جمیل قادریؔ پڑھنا سلام
جب نظر کے سامنے ہو روئے ختم المرسلیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.