افسانۂ کلیم ہے دور کہن کی بات
معراج کی ہے بات رسول زمن کی بات
میں خوش ہوں اس لیے کہ غلام رسول ہوں
آئے زباں پہ کیوں مرے رنج و محن کی بات
جس کا کلام جہل عرب کو مٹا گیا
ہاں واعظو کرو اسی شیریں سخن کی بات
ہجرت میں شہ کے ساتھ ملا لطف وہ انہیں
پھر کر سکے صحابہ نہ اپنے وطن کی بات
بوئے پسینہ آئی جو سرکار کی جمیلؔ
فوراً ہی یاد آ گئی مشک ختن کی بات
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.