ترا ذکر ہے ازل سے تری شان لا بدی ہے
ترا ذکر ہے ازل سے تری شان لا بدی ہے
جمیل احمد قادری سالمی گنوری
MORE BYجمیل احمد قادری سالمی گنوری
ترا ذکر ہے ازل سے تری شان لا بدی ہے
تری کیا بیاں ہو رفعت تو رسول آخری ہے
میں ہوں مفلسی کا مارا تو غنی ہے تو غنی ہے
مری زندگی کا مقصد ترے در کی حاضری ہے
نہ ارم کی جستجو ہے نہ ہے سیم و زر کی حاجت
ترے در پہ موت آئے مری آرزو یہی ہے
ترے غم میں مست رہنا ترا ذکر کر کے رونا
یہی میرا مشغلہ ہے یہی میری زندگی ہے
یوں بڑھایا جا رہا ہے ترا رتبہ بیت اقدس
کہ امام تو بنا ہے جسے دیکھو مقتدی ہے
ہے ترے طفیل سالم مری زندگی درخشاں
ہے عروج مجھ کو حاصل تری بندہ پروری ہے
میں مدینے جب بھی پہنچوں تو یہ اک صدا بھی سن لوں
تو جمیلؔ نعت پڑھ اب یہی وقت حاضری ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.