اس طرح تصور میں سرکار نظر آئے
اس طرح تصور میں سرکار نظر آئے
تا حد نظر مجھ کو انوار نظر آئے
بے وزن اندھیروں سے انبار نظر آئے
جب ماہ رسالت کے انوار نظر آئے
جب آپ کے روضے کی مینار نظر آئے
روشن مری قسمت کے آثار نظر آئے
افکار زمانہ سے ہوتا ہے وہ بیگانہ
جو جام سے وحدت کے سرشار نظر آئے
معراج میں احمد کو حاصل ہوئی وہ رفعت
جبریل بھی جانے پر لاچار نظر آئے
جس پر تری رحمت کی ہر لمحہ عنایت ہو
وہ تیرا بھکاری کیوں نادار نظر آئے
دنیا پہ جمیلؔ ایسی یلغار محبت کر
ہر قصر تکبر کا مسمار نظر آئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.