ہوا خود سر بہ سجدہ گھر خدا کا
ہوا خود سر بہ سجدہ گھر خدا کا
منور جب ہوا گھر آمنہ کا
کوئی حاصل نہیں ایسی دعا کا
وسیلہ ہو نہ جس میں مصطفیٰ کا
مرا ہر نقش پا ہے ماہ و انجم
میں عاشق ہوں حبیب کبریا کا
حد دیوانگی سے بڑھ چکا ہوں
نہیں غم اب مجھے روز جزا کا
اکھاڑا ہے علی نے باب خیبر
اشارہ پاتے ہی خیرالوریٰ کا
جسے دنیا کہا جاتا ہے لوگو
ہے عطیہ یہ حبیب کبریا کا
خدا کو بھی ہے پیارا وہ ہی بندا
جو اپنائے طریقہ مصطفیٰ کا
جہاں جبریل ہیں جانے سے قاصر
وہاں پر تو گزر ہے مصطفیٰ کا
اٹھایا سر نہ میرے مقتدر نے
کیا سجدہ ادا بھی کس ادا کا
در سالم در اچھے میاں سے
ملا ہے سلسلہ غوث الوریٰ کا
جمیلؔ قادری کی لاج رکھنا
یہ اک پیکر ہے بس جرم و خطا کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.