عاشق ترے ہم نے کیے معلوم بہت ہیں
عاشق ترے ہم نے کیے معلوم بہت ہیں
ظالم تو ہی دنیا میں ہے مظلوم بہت ہیں
گل دیکھے جو سو غنچے نظر آئے ہزاروں
خوش ہیں گے کم اس باغ میں مغموم بہت ہیں
مجھ جیسے جو خادم کی ہو خدمت سے تمہیں عار
تو خوش رہو تم مجھ کو بھی مخدوم بہت ہیں
شہرہ کے لیے خیل نہ عشاق کے چاہو
دو چار بھی کرنے کے لیے دھوم بہت ہیں
مضموں نہیں تیرا سا کسی بیت میں سوداؔ
یوں شعر تو موزونوں کے منظوم بہت ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.