ہم بلانوش سہی ہوش سے عاری تو نہیں
ہم بلانوش سہی ہوش سے عاری تو نہیں
در ساقی پہ مسرت کے بھکاری تو نہیں
کیوں قفس کے در و دیوار مہک اٹھے ہیں
راستہ بھول گئی باد بہاری تو نہیں
دل بیتاب بہلتا نہیں بہلانے سے
آپ نے زلف کہیں اپنی سنواری تو نہیں
آج کچھ دل کے تڑپنے میں ہے اک لطف عجیب
ان کی محفل میں کہیں بات ہماری تو نہیں
کبھی شبنم سے کبھی دار و رسن سے کھیلے
زندگی ہم تری راہوں کے فراری تو نہیں
فن کے نقاد سے ہندیؔ کوئی اتنا کہہ دے
شاعری ہے کوئی افسانہ نگاری تو نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.