اپنے خیالوں میں اس کو تعمیر کروں گی
اپنے خیالوں میں اس کو تعمیر کروں گی
یعنی وفا کی شعروں میں تفسیر کروں گی
ہو کا عالم جب پاؤں گی در بدری میں
اس کے نام کی وحشت کو جاگیر کروں گی
گائے گا ملہار زمانہ عشق کا میرے
خود کو جس دن اک رانجھا کی ہیر کروں گی
دنیا کی آنکھوں سے دریا بہہ جائے گا
پیدا آہوں میں اتنی تاثیر کروں گی
غالبؔ کی چوکھٹ کی مریدن بن جاؤں گی
اپنی غزل میں میرؔ کا غم تحریر کروں گی
اس کی ذات میں بس جائے گی خوشبو ساری
اپنی زلفوں میں اس کو زنجیر کروں گی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.