آنکھ میں تیرے تصور سے نمی لیں کچھ اور
آنکھ میں تیرے تصور سے نمی لیں کچھ اور
پھر کوئی حشر اٹھا جی میں کہ جی لیں کچھ اور
دست امکاں مرے شانے پہ رکھا رہ جائے
سر کروں میں تری زلفوں کی فصیلیں کچھ اور
جھیل تو میری بھی پلکوں پہ اتر سکتی ہے
تم کرو پیش محبت کی دلیلیں کچھ اور
بجھ گئے زہر میں صیاد کے جلتے پیکان
کھل گئیں مجھ پہ رعایت کی سبیلیں کچھ اور
آنکھ کو چاہیے منظر کوئی اپنے جیسا
خشک ہو جائیں یہ خاموش سی جھیلیں کچھ اور
اس سے پہلے کہ سرابوں کے سفر پر نکلیں
اے چمن ہونٹ تری اوس ہی پی لیں کچھ اور
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.