زندگی خواب دکھاتی ہے یہ کیسے کیسے
زندگی خواب دکھاتی ہے یہ کیسے کیسے
ہم بھی سادہ ہیں کئے جاتے ہیں ویسے ویسے
ہم ہیں کچھ پتلیاں انسان یونہی کہتے ہیں
ہم کو ہر سانس بتایا گیا ایسے ایسے
ہم کو معلوم نہیں اپنا مقدر لیکن
لکھا ہاتھوں کی لکیروں میں ہے جیسے تیسے
آنکھ سے محو ہوئے اور بھی منزل کے نشاں
دیپ جلتے ہی رہے راہ میں جیسے جیسے
اس محبت کی کہانی کے ہیں کردار سبھی
جس کے دیباچے پہ لکھا گیا پیسے پیسے
جن کی خو میں نہ وفائیں نہ نبھانے کی ادا
ان کی دانست میں ہم لوگ ہیں ایسے ویسے
یہ مروت یہ محبت یہ تعلق ناطے
روگ ابرکؔ یہ لگے ہیں تجھے کیسے کیسے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.