زعم ہستی ایک لمحے میں ہوا ہو جائے گا
زعم ہستی ایک لمحے میں ہوا ہو جائے گا
جب حقیقت سے تمہارا سامنا ہو جائے گا
میں ہمیشہ کے لیے سمجھوں گا خود کو سربراہ
اور پھر اک دن مرا بیٹا بڑا ہو جائے گا
سامنے رکھ کر حقائق حوصلے ترتیب دو
ورنہ پیمان محبت کھوکھلا ہو جائے گا
دل مرا ٹوٹے گا امیدیں فنا ہو جائیں گی
اس سے بڑھ کر تم بتاؤ اور کیا ہو جائے گا
دیکھیے صاحب ہے کرسی ظرف والوں کے لیے
جب کوئی کم ظرف بیٹھے گا خدا ہو جائے گا
تتلیاں رخت سفر باندھیں گی مر جائیں گے پھول
آپ کے جانے سے منظر بد نما ہو جائے گا
چھوڑیے بے جا پریشانی کا حاصل کچھ نہیں
جو بھی اچھا یا برا ہونا ہوا ہو جائے گا
کون دیتا ہے ہمیشہ ساتھ ناظرؔ دیکھنا
شام ہوتے ہی یہ سایہ بے وفا ہو جائے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.