سفر کو ختم کرنے پر کبھی مائل نہیں ہوتا
سفر کو ختم کرنے پر کبھی مائل نہیں ہوتا
مسافر زندگی کا طالب منزل نہیں ہوتا
وہ ذمہ دار ہیں خود جو نظر سے قتل ہوتے ہیں
پشیماں قتل پر ایسے کوئی قاتل نہیں ہوتا
گزر جاتا ہے آ کر اک مقام ایسا محبت میں
جہاں مشکل سے بھی اندازۂ مشکل نہیں ہوتا
نہ ہو بیزار سائل سے کہ ہے وہ قدر کے قابل
دھری رہ جاتی تیری دین اگر سائل نہیں ہوتا
ترا دیوانہ رہتا ہے ہمیشہ بھیڑ میں لیکن
بجائے خود کبھی وہ بھیڑ میں شامل نہیں ہوتا
کسی ہیلے سے گر فرعون رک جاتا کنارے پر
تو غرق نیل اس کا دعوائے باطل نہیں ہوتا
نہیں ملتی مثال مہر و ماہ آوارہ گردی میں
عدیلؔ ان میں کوئی آسودۂ منزل نہیں ہوتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.