Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سفر کو ختم کرنے پر کبھی مائل نہیں ہوتا

نظیر علی عدیل

سفر کو ختم کرنے پر کبھی مائل نہیں ہوتا

نظیر علی عدیل

MORE BYنظیر علی عدیل

    سفر کو ختم کرنے پر کبھی مائل نہیں ہوتا

    مسافر زندگی کا طالب منزل نہیں ہوتا

    وہ ذمہ دار ہیں خود جو نظر سے قتل ہوتے ہیں

    پشیماں قتل پر ایسے کوئی قاتل نہیں ہوتا

    گزر جاتا ہے آ کر اک مقام ایسا محبت میں

    جہاں مشکل سے بھی اندازۂ مشکل نہیں ہوتا

    نہ ہو بیزار سائل سے کہ ہے وہ قدر کے قابل

    دھری رہ جاتی تیری دین اگر سائل نہیں ہوتا

    ترا دیوانہ رہتا ہے ہمیشہ بھیڑ میں لیکن

    بجائے خود کبھی وہ بھیڑ میں شامل نہیں ہوتا

    کسی ہیلے سے گر فرعون رک جاتا کنارے پر

    تو غرق نیل اس کا دعوائے باطل نہیں ہوتا

    نہیں ملتی مثال مہر و ماہ آوارہ گردی میں

    عدیلؔ ان میں کوئی آسودۂ منزل نہیں ہوتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے