پہلے تو ذہن سے خلل نکلے
پہلے تو ذہن سے خلل نکلے
پھر کسی گفتگو کا حل نکلے
مجھ کو تو اپنے رستے جانا ہے
آپ کیوں ساتھ ساتھ چل نکلے
جتنا تم چاہو مجھ کو رسوا کرو
کچھ تو احسان کا بدل نکلے
اپنے لہجے کو میں نے جب بدلا
اس کے ماتھے کے سارے بل نکلے
راگ ایسا الاپا ہے اس نے
خود بخود سارے دیپ جل نکلے
دور سے وہ جو لگ رہے تھے گلاب
پاس سے دیکھا تو کنول نکلے
بیج بوئے تھے جس کے اے نجمیؔ
پیڑ میں بس اسی کے پھل نکلے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.