کسی منظر نہ کسی جسم کی عریانی سے
کسی منظر نہ کسی جسم کی عریانی سے
آنکھ حیران ہے خوابوں کی فراوانی سے
جس طرح پیاس میں پانی کا میسر آنا
میں تمہیں دیکھ رہا ہوں اسی حیرانی سے
آگ اور تیز ہوا دل کو لبھاتے ہیں مگر
گہے مٹی سے میں ڈرتا ہوں گہے پانی سے
اے فوائد مجھے دولت کے بتانے والے
شاعری کم تو نہیں تخت سلیمانی سے
جب مجھے زیست کے اسباب میسر آئے
رابطہ ٹوٹ گیا بے سر و سامانی سے
دشت سے لوٹ کے آیا ہوں تو لوگوں نے مجھے
کیسے پہچان لیا چاک گریبانی سے
بات دنیا کو عقیدت سے بتاؤ کہ سعیدؔ
چین ملتا ہے محمد کی ثنا خوانی سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.