خود کو اظہار میں لانے کے لیے ہوتے ہیں (ردیف .. ے)
خود کو اظہار میں لانے کے لیے ہوتے ہیں
شعر کب نام کمانے کے لیے ہوتے ہیں
آؤ ہم اشک فشانی سے چراغاں کر لیں
رنج ہی رنج مٹانے کے لیے ہوتے ہیں
زیست کی رام کہانی کا خلاصہ ہے یہی
ہم سے کردار فسانے کے لیے ہوتے ہیں
اس لیے یار تجھے دل میں بسایا میں نے
عکس تو آئنہ خانے کے لیے ہوتے ہیں
اب کوئی شخص ترے جسم پہ قابض ہوا ہے
یعنی سب سانپ خزانے کے لیے ہوتے ہیں
گردنیں کون جھکاتا ہے محبت میں سعیدؔ
یار سینے سے لگانے کے لیے ہوتے ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.