جو دیکھتے ہیں غروب آفتاب ہوتے ہوئے
جو دیکھتے ہیں غروب آفتاب ہوتے ہوئے
ہمیں بھی دیکھیں گے اک روز خواب ہوتے ہوئے
دیار عشق میں حسن و شباب ہوتے ہوئے
دیئے جلائے ہیں کیوں ماہتاب ہوتے ہوئے
جنہوں نے اشک ہمارے لئے بہائے ہیں
وہ کیسے دیکھیں گے ہم پر عذاب ہوتے ہوئے
بھٹک رہے ہیں جہالت کے تپتے صحرا میں
ہمارے پاس اک ایسی کتاب ہوتے ہوئے
گھری ہوئی ہے بھلا زیست کیوں اندھیروں میں
چراغ ہوتے ہوئے ماہتاب ہوتے ہوئے
وہ بخش دے گا مجھے ایک سچی توبہ پر
مرے گناہ بہت بے حساب ہوتے ہوئے
خموش بیٹھا رہا میں لحاظ میں اس کے
ہر ایک بات کا نجمیؔ جواب ہوتے ہوئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.