Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جو دیکھتے ہیں غروب آفتاب ہوتے ہوئے

نعیم نجمی

جو دیکھتے ہیں غروب آفتاب ہوتے ہوئے

نعیم نجمی

MORE BYنعیم نجمی

    جو دیکھتے ہیں غروب آفتاب ہوتے ہوئے

    ہمیں بھی دیکھیں گے اک روز خواب ہوتے ہوئے

    دیار عشق میں حسن و شباب ہوتے ہوئے

    دیئے جلائے ہیں کیوں ماہتاب ہوتے ہوئے

    جنہوں نے اشک ہمارے لئے بہائے ہیں

    وہ کیسے دیکھیں گے ہم پر عذاب ہوتے ہوئے

    بھٹک رہے ہیں جہالت کے تپتے صحرا میں

    ہمارے پاس اک ایسی کتاب ہوتے ہوئے

    گھری ہوئی ہے بھلا زیست کیوں اندھیروں میں

    چراغ ہوتے ہوئے ماہتاب ہوتے ہوئے

    وہ بخش دے گا مجھے ایک سچی توبہ پر

    مرے گناہ بہت بے حساب ہوتے ہوئے

    خموش بیٹھا رہا میں لحاظ میں اس کے

    ہر ایک بات کا نجمیؔ جواب ہوتے ہوئے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے