جو بجھ رہے ہیں دیے ان کو یہ خبر کرنا
جو بجھ رہے ہیں دیے ان کو یہ خبر کرنا
انہی کے دم سے ہے ممکن ہوا سحر کرنا
جو قافلوں میں نہ تھے منزلوں کو جا پہنچے
کوئی سکھائے ہمیں اس طرح سفر کرنا
بھروسے دل کے جو کیں ہجرتیں تو یہ جانا
ہے اس کا مشغلہ بستی کو در بدر کرنا
گنوا دی زندگی منزل کی چاہ میں ہم نے
مگر نہ چاہا کبھی راستوں کو گھر کرنا
دلوں کے فیصلے ہوتے نہیں دماغوں سے
سو ہم نے چھوڑ دیا ہے اگر مگر کرنا
گر اپنے شام و سحر دیکھ لیں تو ہم جانیں
دعا نے چھوڑ دیا اب ہے کیوں اثر کرنا
بس اپنے آپ کی باتوں میں آئے رہتے ہیں
کسی کے بس میں کہاں خون دل جگر کرنا
قصور وقت بھلا کب معاف کرتا ہے
خمیر میں ہی نہیں اس کے درگزر کرنا
رہے وہ شاد زمانے میں سب کی حسرت ہے
مگر یہ خواب ہے آیا کسے بسر کرنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.