Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جو بجھ رہے ہیں دیے ان کو یہ خبر کرنا

اتباف ابرک

جو بجھ رہے ہیں دیے ان کو یہ خبر کرنا

اتباف ابرک

MORE BYاتباف ابرک

    جو بجھ رہے ہیں دیے ان کو یہ خبر کرنا

    انہی کے دم سے ہے ممکن ہوا سحر کرنا

    جو قافلوں میں نہ تھے منزلوں کو جا پہنچے

    کوئی سکھائے ہمیں اس طرح سفر کرنا

    بھروسے دل کے جو کیں ہجرتیں تو یہ جانا

    ہے اس کا مشغلہ بستی کو در بدر کرنا

    گنوا دی زندگی منزل کی چاہ میں ہم نے

    مگر نہ چاہا کبھی راستوں کو گھر کرنا

    دلوں کے فیصلے ہوتے نہیں دماغوں سے

    سو ہم نے چھوڑ دیا ہے اگر مگر کرنا

    گر اپنے شام و سحر دیکھ لیں تو ہم جانیں

    دعا نے چھوڑ دیا اب ہے کیوں اثر کرنا

    بس اپنے آپ کی باتوں میں آئے رہتے ہیں

    کسی کے بس میں کہاں خون دل جگر کرنا

    قصور وقت بھلا کب معاف کرتا ہے

    خمیر میں ہی نہیں اس کے درگزر کرنا

    رہے وہ شاد زمانے میں سب کی حسرت ہے

    مگر یہ خواب ہے آیا کسے بسر کرنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے