اس کشمکش سے ہم کو گزر جانا چاہیے
اس کشمکش سے ہم کو گزر جانا چاہیے
گھبرائے گھر سے دل تو کدھر جانا چاہیے
تنگ آ چکے ہیں اتنے غم زندگی سے ہم
ہر وقت سوچتے ہیں کہ مر جانا چاہیے
پینے کے بعد اور بھڑکنے لگی ہے پیاس
جام حیات اب تجھے بھر جانا چاہیے
چاروں طرف غبار ہے منزل نہ راستہ
ہم سوچتے ہیں ہم کو کدھر جانا چاہیے
گر چاہتے ہو تم کو غموں سے ملے نجات
بہتر یہ ہے کی سجدے میں سر جانا چاہیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.