ہے دائمی یہ جوانی نہ زندگانی ہے
ہے دائمی یہ جوانی نہ زندگانی ہے
بہار گر ہے چمن میں خزاں بھی آنی ہے
نظر میں جن کے برابر ہیں خار ہو کہ ہو گل
انہیں کو مژدۂ منزل کی شادمانی ہے
ہوں شش جہات سے باہر کی جستجو میں مگن
زمین کا ہوں مکیں سوچ لا مکانی ہے
دل و دماغ پہ کوئی اثر نہ چھوڑے گر
تو واعظ آپ کی تقریر بے معانی ہے
تمام شہر پہ جادو کرے مری یہ غزل
ردیف قافیے کے ساتھ یوں نبھانی ہے
یہی ہے فلسفۂ زندگی مرے نزدیک
غموں میں لپٹی خوشی اصل زندگانی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.