دنیا کی نعمتوں سے ہے بیزار زندگی
دنیا کی نعمتوں سے ہے بیزار زندگی
اب دیکھتی ہے جینے کے آثار زندگی
جس سمت جاؤں نفرتیں کینہ حسد جلن
کچھ تو محبتوں کی تھی حق دار زندگی
اب انتظار ہے اسے اپنے طبیب کا
کب تک رہے گی ایسے ہی بیمار زندگی
کتنے حسین لوگ تھے آنکھوں کے سامنے
پر چاہتی تھی تیرا ہی دیدار زندگی
مجھ غمزدہ پہ تو نے بھی اتنے ستم کئے
تجھ سے تو تھا کچھ اور ہی درکار زندگی
ہم زندگی پہ دیتے ہیں ترجیح موت کو
ہم تو نہیں ہیں تیرے طلبگار زندگی
الماسؔ پھر گزار دی ان کے بغیر بھی
جن کے بغیر لگتی تھی آزار زندگی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.