اگر حد سے تجاوز ہو کثافت بھی نہیں اچھی
اگر حد سے تجاوز ہو کثافت بھی نہیں اچھی
جو ہو معیار سے نیچے نظافت بھی نہیں اچھی
محبت تو مقدر ہے کبھی گل ہے کبھی کانٹے
معین حد سے آگے اب لطافت بھی نہیں اچھی
اگر یہ زندگی ہم سے الجھنے پر ہے آمادہ
اسے تسلیم کرنے کی شرافت بھی نہیں اچھی
کسی شوریدہ سر کی پیروی میں دشت مت جانا
جنون عشق کی خاطر مسافت بھی نہیں اچھی
ہمارے پیار کو طنز و تمسخر میں نہ یوں ٹالو
برائے دل لگی اتنی ظرافت بھی نہیں اچھی
نہ بھول اے ابن آدم خلد سے اپنے نکلنے کو
ضرورت سے زیادہ اب خلافت بھی نہیں اچھی
چراغ صبح ہے کب تک جلے اور نقشؔ بجھ جائے
شب غم کی طوالت میں اضافت بھی نہیں اچھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.