Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

رکھتا ہے ظاہراً جسے زندان باندھ کر

عون رضا

رکھتا ہے ظاہراً جسے زندان باندھ کر

عون رضا

MORE BYعون رضا

    رکھتا ہے ظاہراً جسے زندان باندھ کر

    زنجیر پا سے بیٹھا ہے ایوان باندھ کر

    کس کس ادا سے اس نے بنایا مجھے اسیر

    بانہوں کو کھول کر کبھی پیمان باندھ کر

    آیا تو جھومتا رہا دریا کی ناف میں

    لایا تھا اپنے ساتھ جو طوفان باندھ کر

    گرہیں نہ کھول پاؤں گا میں جانتا ہے وہ

    دل میں ہی چھوڑ جائے گا سامان باندھ کر

    لوٹ آیا ایک موج عریضہ بہا کے میں

    دریا سے تیری پیاس کا ارمان باندھ کر

    منت کے دھاگے سے میری قسمت نہیں کھلی

    آیا ہوں اب کہ چاک گریبان باندھ کر

    پندار اس کی یاد کے پیچھے پڑا تھا عونؔ

    اک سمت رکھ دیا ہے یہ حیوان باندھ کر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے