زخم کی کائنات میں خون کا قحط پڑ گیا
زخم کی کائنات میں خون کا قحط پڑ گیا
کثرت گریہ کے سبب جسم تمام سڑ گیا
ہائے وہ مرگ آشنا وحشت شب کی ہاؤ ہو
دل نے بھی سر پکڑ لیا درد بھی پاؤں پڑ گیا
وقت کے وحشی رقص میں ذات کچھ ایسی گم ہوئی
عقل نے ہار مان لی ہتھے سے دل اکھڑ گیا
خانہ خراب عشق کو ہجر سے کیا گلہ بھلا
پہلے سے ہی اجاڑ دل اور ذرا اجڑ گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.