یوں ہی زخموں کی نمائش کو بہ کو کرتے رہو
یوں ہی زخموں کی نمائش کو بہ کو کرتے رہو
جاؤ اپنے آپ کو بے آبرو کرتے رہو
اک مصیبت یہ ہے پھر بزدل سمجھ لیتے ہیں لوگ
نرم لہجے میں بھی کب تک گفتگو کرتے رہو
میرے ذمے تو بہت سے کام ہیں میں تو چلا
تم نے کچھ کرنا نہیں تم ہاؤ ہو کرتے رہو
پہلی ٹھوکر سے ہی جب گھبرا گئے تو جاؤ پھر
گھر میں بیٹھو خواب دیکھو آرزو کرتے رہو
دن میں سورج تھا تو تم نے رات کا سوچا نہیں
اب اندھیرے میں دیوں کی جستجو کرتے رہو
آخرش پھٹ جائے گا کاشفؔ لباس زندگی
جی رہے ہو جب تلک اس کو رفو کرتے رہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.