Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تمہارے نام پہ مرنے سے ڈر نہیں سکتا

ثقلین مشتاق

تمہارے نام پہ مرنے سے ڈر نہیں سکتا

ثقلین مشتاق

MORE BYثقلین مشتاق

    تمہارے نام پہ مرنے سے ڈر نہیں سکتا

    خمار عشق کبھی بھی اتر نہیں سکتا

    وہ چہرہ جس کو اداسی نے گھیر رکھا ہو

    وہ چاہے جتنا حسیں ہو نکھر نہیں سکتا

    نظر لگے نہ تجھے اس لیے میں کہتا ہوں

    تو ایک حد سے زیادہ سنور نہیں سکتا

    جھلستی دھوپ میں صحرا سے تو گزر جاؤں

    مگر گلی سے تری اب گزر نہیں سکتا

    ہزار باتیں کہیں روبرو ترے لیکن

    وہ ایک بات جو دل میں ہے کر نہیں سکتا

    ہرا بھرا ہی رہے گا یہ عمر بھر مشتاقؔ

    یہ زخم تیری نشانی ہے بھر نہیں سکتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے