تمہارے نام پہ مرنے سے ڈر نہیں سکتا
تمہارے نام پہ مرنے سے ڈر نہیں سکتا
خمار عشق کبھی بھی اتر نہیں سکتا
وہ چہرہ جس کو اداسی نے گھیر رکھا ہو
وہ چاہے جتنا حسیں ہو نکھر نہیں سکتا
نظر لگے نہ تجھے اس لیے میں کہتا ہوں
تو ایک حد سے زیادہ سنور نہیں سکتا
جھلستی دھوپ میں صحرا سے تو گزر جاؤں
مگر گلی سے تری اب گزر نہیں سکتا
ہزار باتیں کہیں روبرو ترے لیکن
وہ ایک بات جو دل میں ہے کر نہیں سکتا
ہرا بھرا ہی رہے گا یہ عمر بھر مشتاقؔ
یہ زخم تیری نشانی ہے بھر نہیں سکتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.