کون کہتا ہے پرائے ہو گئے
کون کہتا ہے پرائے ہو گئے
''جیسے وہ تھے ہم بھی ویسے ہو گئے''
جب لگایا اس نے مرہم پیار سے
زخم سارے میرے تازے ہو گئے
مفلسی نے ہم سے چھینا آشیاں
چھوڑ کر گھر کو اکیلے ہو گئے
تم سے ملنے کی ہے اب خواہش مری
جو تھے اپنے سب پرائے ہو گئے
آرزو تو اب کسی شے کی نہیں
ہم بھی اب شاید سیانے ہو گئے
رنگ جب میثاقؔ محفل کا کھلا
مسکرا کر ہم کنارے ہو گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.