عشق میں ڈوب جانا پڑتا ہے
عشق میں ڈوب جانا پڑتا ہے
زخم پر زخم کھانا پڑتا ہے
گرم آنسو اداس راتوں میں
چپکے چپکے بہانا پڑتا ہے
ہر جگہ عقل کی نہیں چلتی
کچھ جگہ سر جھکانا پڑتا ہے
میکدے کا اصول ہے صاحب
ہاتھ آگے بڑھانا پڑتا ہے
مفت میں بھیک بھی نہیں ملتی
خود کو حد سے گرانا پڑتا ہے
آنسوؤں کو سنبھال کر رکھنا
بزم میں مسکرانا پڑتا ہے
راز کھلتا ہے عشق کا اکرمؔ
جب جگر آزمانا پڑتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.