آج اس در پہ ہیں کل جانے کدھر جائیں گے
آج اس در پہ ہیں کل جانے کدھر جائیں گے
خشک پتوں کی طرح ہم بھی بکھر جائیں گے
زخم اپنے کبھی یاروں کو دکھایا نہ کرو
کچھ ہنسیں گے تو کئی طنز بھی کر جائیں گے
عہد پر شہر کے لوگوں کا یقیں کیا کرنا
یہ تو حالات بدلتے ہی مکر جائیں گے
ان پرندوں کو اڑاؤ نہ جو چھت پر آئیں
شام کے بعد یہ بستی سے گزر جائیں گے
لو چراغوں کی بڑھا دیتے ہیں پروانوں پر
اور امید یہ کرتے ہیں کہ ڈر جائیں گے
گھر کے چوراہے پہ سب لوگ کھڑے ہیں کب سے
اور معلوم نہیں کب یہ کدھر جائیں گے
لوگ روئیں گے بہت دیر تلک روئیں گے
شعر پڑھتے ہوئے وارثؔ تو گزر جائیں گے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.