Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

میں نے یہ کب کہا تھا سدھر جانا چاہیے

ضامن جعفری

میں نے یہ کب کہا تھا سدھر جانا چاہیے

ضامن جعفری

MORE BYضامن جعفری

    دلچسپ معلومات

    پروین شاکر کی برسی پر اسلام آباد میں پڑھی گئی۔ مصرع طرح ’’یہ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہیے‘‘۔

    میں نے یہ کب کہا تھا سدھر جانا چاہیے

    بس خود بہ خود نصیب سنور جانا چاہیے

    ناصح سے اور رقیب سے نمٹوں میں کس طرح

    ان میں سے ایک کو تو گزر جانا چاہیے

    تصویر یار دیکھ کے زاہد نے بھی کہا

    بے شک کبھی کبھار ادھر جانا چاہیے

    پہلے بجا تھا رہتا تھا غصہ جو ناک پر

    اب ناک کٹ گئی ہے اتر جانا چاہیے

    ہم دو ہیں بس یہ خواب بہت دیکھتا ہوں میں

    ان کو اب اس میں رنگ بھی بھر جانا چاہیے

    الجھا ہوا ہوں مسئلۂ حور و یار میں

    یہ نقد وہ ادھار کدھر جانا چاہیے

    اس کو سدھارنے کا طریقہ بس ایک ہے

    ناصح کو لے کے آپ کے گھر جانا چاہیے

    پوچھی جو راہ کوچۂ جاناں رقیب نے

    ایسی بتائی سوئے سقر جانا چاہیے

    دریا چڑھا ہوا ہے وہ بالائے بام ہیں

    موجیں بھی کہہ رہی ہیں ٹھہر جانا چاہیے

    یا رب ذرا سے دانۂ گندم کی بات تھی

    مدت ہوئی اب اس کا اثر جانا چاہیے

    دعوائے عشق وہ بھی سر کوچۂ رقیب

    میری سنو تو صاف مکر جانا چاہیے

    ضامنؔ نظر جھکا کے وہ شرمائیں جب کبھی

    موقع وہی ہے تم کو پسر جانا چاہیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے