یہ مہربان تھا تو وہ نامہرباں لکھوں
یہ مہربان تھا تو وہ نامہرباں لکھوں
موقع ملے تو تذکرۂ دوستاں لکھوں
اب میرے سامنے کوئی دیوار بھی نہیں
لکھنا تو چاہتا ہوں بتاؤ کہاں لکھوں
کانٹوں کو پھول پیاس کو آب رواں لکھوں
کیسے میں اس خرابے کو رشک جناں لکھوں
دشت جنوں کی ضد ہے کہ لکھ خیریت کا خط
میں پوچھتا ہوں کس کو لکھوں اور کہاں لکھوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.